فاضل عدالت کا ایف آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر کو آئندہ تاریخ سماعت تک سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی تشہیر کے خلاف درخواستوں کی روشنی میں تمام ملزمان کو گرفتار کرنے کا بھی حکم۔۔۔

 *راولپنڈی*

#یاشاہ_امم_مرحبا








لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ میں سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی تشہیر کے خلاف پٹیشن کی سماعت۔۔۔


لاہور ہائیکورٹ کے فاضل جسٹس چوہدری عبدالعزیز نے عمر نواز اور عامر ظفر کی جانب سے دائر پٹیشن کی سماعت کی۔۔۔


پٹیشنر کی جانب سے خان کامران ادریس ایڈووکیٹ،راجہ عمران خلیل ایڈووکیٹ،شائستہ چوہدری ایڈووکیٹ،سدرہ گلزار ایڈووکیٹ اور راؤ عبدالرحیم ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔۔۔


ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد ریاض ایف آئی اے کے اے ڈی لیگل شیخ عامر اور دیگر حکام کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔۔۔


پی ٹی اے کے ڈائریکٹر ویب محمد فاروق ڈائریکٹر لیگل حافظ نعیم اشرف اور دیگر حکام کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔۔۔


ایف آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد ریاض نے فاضل عدالت عالیہ کے حکم پر ملک بھر میں سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی تشہیری مہم کے خلاف موصول ہونے والی درخواستوں کے متعلق رپورٹ عدالت میں پیش کر دی۔۔۔


رپورٹ میں ایف آئی اے نے فاضل عدالت کو سنہ 2019 سے لیکر اب تک موصول ہونے والی درخواستوں کی تفصیلات بتائی ہیں۔۔۔


فاضل عدالت عالیہ نے ایف آئی اے کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ پر اظہار عدم اعتماد کرتے ہوئے آئندہ تاریخ سماعت پر جامع رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔۔۔


آپ کے تجزیہ کے مطابق اس وقت تک پاکستان میں کتنے لوگ سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی تشہیر کررہے ہیں»فاضل عدالت کا ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے سے استفسار۔


ہمارے تجزیہ کے مطابق سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث ملزمان کی تعداد لاکھوں میں ہے»ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے کا عدالت میں بیان۔


لاکھوں کی تعداد میں اگر ملزمان گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث ہیں تو اس کا کون ذمہ دار ہے»فاضل جسٹس چوہدری عبدالعزیز کا ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے سے استفسار۔


بلاشبہ ریاست اس کی ذمہ دار ہے»ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے کا جواب۔


ریاست نہیں،ایف آئی اے کا سائبر کرائم ونگ اس کا ذمہ دار ہے»فاضل جسٹس چوہدری عبدالعزیز کے ریمارکس۔


ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کی جانب سے اپنی ڈیوٹی اداء نہ کرنے پر آج نوبت یہاں تک پہنچی ہے»فاضل جسٹس چوہدری عبدالعزیز کے ریمارکس۔


یہ ملزمان صرف گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث نہیں بلکہ ریاستی اداروں بالخصوص افواج پاکستان کے خلاف مہم میں بھی ملوث ہیں»پٹیشنر کے وکیل راؤ عبدالرحیم کا عدالت میں موقف۔


ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے نے بھی پٹیشنر کے وکیل کے مذکورہ موقف کی تصدیق کی۔۔۔


ملزمان کے خلاف ریاستی اداروں سمیت ملک کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے بھی شواہد ملے ہیں»ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے۔


متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر گستاخانہ اور ریاست مخالف مواد کی تشہیری مہم کا سدباب کرنے کے لئے اقدامات کریں»فاضل جسٹس چوہدری عبدالعزیز کے ریمارکس۔


متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس گھناؤنے جرم میں ملوث ملزمان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کاروائی کریں»فاضل جسٹس چوہدری عبدالعزیز کے ریمارکس۔


پی ٹی اے اور پیمرا کی ذمہ داری ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر جاری گستاخانہ مواد کی تشہیری مہم کے خلاف عوامی آگاہی مہم چلائے»فاضل جسٹس چوہدری عبدالعزیز کے ریمارکس۔


ایسے گھناؤنے جرم میں ملوث ملزمان کے خلاف کاروائی اور عوامی آگاہی مہم کے ذریعے جب تک معاشرے میں خوف و ہراس پیداء نہ ہو،تب تک اس جرم کا سدباب نہیں ہو سکتا»فاضل جسٹس چوہدری عبدالعزیز کے ریمارکس۔


ایف آئی اے آئندہ تاریخ سماعت پر سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی تشہیر کے خلاف درخواستوں کے متعلق جامع رپورٹ پیش کرے»فاضل جسٹس چوہدری عبدالعزیز کی ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے کو ہدایت۔


عدالت سے کچھ بھی چھپانے کی کوشش نہ کی جائے۔اگر ماضی میں کوئی کوتاہی ہوئی بھی ہے تو ہم اسے لیکر نہیں بیٹھیں گے»فاضل جسٹس چوہدری عبدالعزیز کے ریمارکس۔


ہم نے آگے بڑھنا ہے اور وطن عزیز کو اس آگ سے بچانے کے لئے آئین و قانون کے مطابق اقدامات کرنے ہیں»فاضل جسٹس چوہدری عبدالعزیز کے ریمارکس۔


ہمارا سارا انحصار ایف آئی اے کی رپورٹ پر ہے،اس لئے ایف آئی اے حقائق پر مبنی رپورٹ پیش کرے»فاضل جسٹس چوہدری عبدالعزیز کے ریمارکس۔


ایف آئی اے کی رپورٹ کی روشنی میں ہم مستقبل کے لئے اقدامات کے حوالے سے احکامات جاری کریں گے»فاضل جسٹس چوہدری عبدالعزیز کے ریمارکس۔


سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی تشہیری مہم کے سدباب کی ذمہ داری سب سے زیادہ پی ٹی اے پر عائد ہوتی ہے»ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے کا عدالت میں موقف۔


پی ٹی اے نے پی ٹی اے رولز 2021 کے تحت سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کے لئے جو اقدامات کرنے تھے،وہ نہیں کئے»ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے کا عدالت میں موقف۔


پی ٹی اے نے اپنے رولز کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی رجسٹریشن کروانی تھی،ان کے دفاتر پاکستان میں کھلوانے تھے،ان کے نمائندوں کا پاکستان میں تقرر کروانا تھا»ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے کا عدالت میں موقف۔


پی ٹی اے نے ان اقدامات کے ذریعے ایف آئی اے کی مدد کرنی تھی،مگر اب تک پی ٹی اے رولز 2021 پر عملدرآمد نہیں ہوا»ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے کا عدالت میں موقف۔


سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کی بہت ضرورت ہے اور پی ٹی اے ریگولیٹری اتھارٹی ہے»فاضل جسٹس چوہدری عبدالعزیز کے ریمارکس۔


سوشل میڈیا پر صرف گستاخانہ مواد کی تشہیر نہیں ہو رہی بلکہ ریاستی اداروں اور ملک کے خلاف بھی بہت کچھ ہو رہا ہے»فاضل جسٹس چوہدری عبدالعزیز کے ریمارکس۔


حال ہی میں بلوچستان میں پاک فوج کا ہیلی کاپٹر تباہ ہوا۔اس حادثے میں ہماری فوج کے جوان اور افسران شہید ہوئے»فاضل جسٹس چوہدری عبدالعزیز کے ریمارکس۔


فوجی جوانوں اور افسران کی شہادت کے بعد سوشل میڈیا پر جس قسم کی مہم چلی،وہ بھی سب کے سامنے ہے»فاضل جسٹس چوہدری عبدالعزیز کے ریمارکس۔


فاضل عدالت عالیہ کا پی ٹی اے کو بھی آئندہ تاریخ سماعت پر جامع رپورٹ پیش کرنے کا حکم۔۔۔


پی ٹی اے رپورٹ دے کہ ہمارے ہمسائے اسلامی ممالک میں سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کے لئے کیا اقدامات کئے گئے»فاضل عدالت عالیہ کا حکم۔


پی ٹی اے رپورٹ دے کہ دیگر اسلامی ممالک اور بھارت میں بھی کیا سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی ایسی تشہیری مہم چلتی ہے،جیسے پاکستان میں چل رہی ہے»فاضل جسٹس چوہدری عبدالعزیز کی پی ٹی اے حکام کو ہدایت۔


فاضل عدالت کا ایف آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر کو آئندہ تاریخ سماعت تک سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی تشہیر کے خلاف درخواستوں کی روشنی میں تمام ملزمان کو گرفتار کرنے کا بھی حکم۔۔۔


فاضل عدالت عالیہ نے مذکورہ پٹیشن کی مزید سماعت چار اکتوبر تک ملتوی کر دی۔۔۔


منجانب:

تحریک تحفظ ناموس رسالت ﷺ پاکستان۔

لیگل کمیشن آن بلاسفیمی پاکستان۔

ناموس رسالت ﷺ لائرز فورم پاکستان۔

Comments